فهرس الكتاب

الصفحة 755 من 4341

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

باب: گھروں میں نماز کی جگہ مقرر کر لینا درست ہے

755 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ الْخُرْقِي قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعَالَ فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا فِي دَارِي أُصَلِّي فِيهِ، وَذَلِكَ بَعْدَ مَا عَمِيَ، «فَجَاءَ، فَفَعَلَ»

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ میرے گھر تشریف لا کر میرے لئے گھر میں ایک مسجد (نماز کی جگ) مقرر کر دیجئے جہاں میں نماز پڑھا کروں۔ اس وقت وہ صحابی نا بینا ہو چکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور اس صحابی کی فرمائش پوری کی۔

یہ صحابی حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں جیسے کہ گزشتہ حدیث میں صراحت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت