فهرس الكتاب

الصفحة 769 من 4341

کتاب: مسجد اور نماز باجماعت کے مسائل

باب: اونٹوں اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھنے کا بیان

769 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَلَا تُصَلُّوا فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ''

سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی ؓ سے روایت ہے ، نبی ﷺ نے فرمایا: ''بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لیا کرو اور اونٹوں کے باڑے میں نماز نہ پڑھو، کیوں کہ وہ شیطانوں سے پیدا ہوئے ہیں۔ ''

شیطانون سے پیدا ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ان میں شرارت کی عادت پائی جاتی ہے۔اونٹ کا کینہ مشہور ہے اس لیے خطرہ رہتا ہے کہ موقع پاکر نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرے۔ورنہ پیشاب اور منگنیاں تو بکریوں اور اونٹوں دونوں کے بارے میں ہوتی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت