843 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ يَزِيدَ الْفَقِيرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: «كُنَّا نَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الْإِمَامِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَسُورَةٍ وَفِي الْأُخْرَيَيْنِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ»
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم لوگ امام کے پیچھے ظہر اور عصر کی نمازوں میں پہلی دو رکعتوں میں سورہٴ فاتحہ اور کوئی اور سورت پڑھتے تھے اور بعد کی دو رکعتوں میں ( صرف) سورہٴ فاتحہ پڑھتے تھے۔
۔1۔امام کے پیچھے بھی سورۃ فاتحہ پڑھنا ضروری ہے۔2۔سری نمازوں میں امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھ لینے کے بعد دوسری صورت بھی پڑھی جاسکتی ہے۔