848 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَصْحَابِهِ صَلَاةً، نَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ، فَقَالَ: «هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ؟» قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ «إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ»
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی جو غالبًا صبح کی نماز تھی۔ ( نماز کے بعد) فرمایا: ''کیا تم میں سے کسی نے قراءت کی ہے؟ '' ایک آدمی نے کہا: جی ہاں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں کہہ رہا تھا، کیا وجہ ہے کہ مجھ سے تلاوت قرآن میں کشمکش ہو رہی ہے؟''
۔1۔جہری نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد امام کی قراءت خاموشی سے سننی چاہیے۔2۔تشہد میں سب سے پہلے التحیات للہ۔۔۔آخر تک پوری دعا۔اس کے بعد درود شریف۔اورپھر دوسری دعایئں پڑھنی چاہییں۔