فهرس الكتاب

الصفحة 885 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: سجدوں کا بیان

885 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَجَدَ الْعَبْدُ سَجَدَ مَعَهُ سَبْعَةُ آرَابٍ وَجْهُهُ وَكَفَّاهُ وَرُكْبَتَاهُ وَقَدَمَاهُ

سیدنا عباس بن عبدالمطلب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے نبی ﷺ سے یہ ارشاد مبارک سنا: ''جب بندہ سجدہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ سات اعضاء سجدہ کرتے ہیں۔ اس کا چہرہ، اس کے دونوں ہاتھ، اس کے دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں۔''

سجدہ اللہ کے حضور بندے کی عاجزی کے اظہار کا سب سے افضل طریقہ ہے اس موقع پر جسم کے سات اعضاء زمین کوچھوتے ہیںَ گویا یہ سب اعضاء عملی طور پر عبودیت کا اظہار کر رہے ہیں۔دل کے خشوع اور اعضاء کے زمین کوچھونے کا مجموعہ اصل سجدہ ہے۔بندے کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس کا سجدہ زیادہ کامل ہو تاکہ اللہ کی زیادہ سے زیادہ خوشنودی حاصل ہوسکے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت