فهرس الكتاب

الصفحة 920 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: ایک طرف سلام پھیرنا بھی درست ہے

920 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَارِثِ الْمِصْرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى، فَسَلَّمَ مَرَّةً وَاحِدَةً»

سیدنا سلمہ بن اکوع ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے نماز ادا فرمائی تو ایک ہی سلام پھیرا۔

۔1۔مذکورہ باب میں تینوں ر وایات ہمارے فاضل محقق کے نزدیک سندا ضعیف ہیں۔جبکہ مسئلہ فی نفسہ درست ہے۔کیونکہ یہ دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔دیکھئے۔ (مسند احمد۔236/6 وسنن ابی دائود الطوع باب فی صلاۃ اللیل حدیث 1345) غالبا ً اسی وجہ سے دیگر محققین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ (تفصیل کےلئے دیکھئے۔(صحیح ابن ماجہ حدیث 918۔919۔920۔) 2۔سامنے کی طرف سلام کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح دونوں سلام پھیرتے وقت چہرہ پوری طرح پھیرا جاتاہے۔اس طرح نہیں پھیرا بلکہ تھوڑا سا دایئں منہ پھیرا جیسے حدیث 914 کے فوائد میں زکر ہوا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت