943 حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ الْأَسْوَدِ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ، ح وَحَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ جَدِّهِ حُرَيْثِ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيَجْعَلْ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيَنْصِبْ عَصًا، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيَخُطَّ خَطًّا، ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ»
سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص نماز پڑھ تو چہرے کے آگے کوئی چیز ( سترے کے طور پر) رکھلے، اگر کچھ نہ ملے تو عسا گاڑ لے، اگر وہ بھی نہ ملے تو لکیر کھیچ لے ، پھر اس کے آگے سے جو کچھ بھی گزرجائے گا، اسے کوئی نقصان نہ دے گا۔''
یہ روایت ضعیف ہے۔اس لئے روایت سے خط کھینچنے کا مسئلہ ثابت نہیں ہوتا۔