954 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلْيُصَلِّ إِلَى سُتْرَةٍ، وَلْيَدْنُ مِنْهَا، وَلَا يَدَعْ أَحَدًا يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يَمُرُّ فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ»
سیدنا ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ سترہ ( سامنے رکھ کر اس) کی طرف نماز پڑھے اور اس سے قریب ہو کر کھڑا ہو اور کسی کو سامنے سے گزرنے نہ دے۔ اگر کوئی گزرنے لگے تو اس سے لڑے کیوں کہ وہ شیطان ہے۔''
۔1۔اگر نمازی ایسی جگہ نماز پڑھے جہاں اسے خیال ہوکہ کوئی آگے سے گزر سکتا ہے تو اسے سترہ ضرور رکھ لینا چاہیے۔2۔دیوار یاستون بھی سترہ بن سکتا ہے۔3۔نمازی اور سترے کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ نہیں ہونا چاہیے۔ورنہ سترے کامقصد فوت ہوجائےگا۔4۔اگر کوئی شخص نمازی اور سترے کے درمیان سے گزرنا چاہے تو اسے اشارے سے روکنا چاہیے نہ رکے تو سختی سے روکنا چاہیے۔اگردھکا دینا پڑے تو اس طرح ہی روک دے,لڑنے,سے یہی مراد ہے۔5۔گزرنے والے کو شیطان کہنے کامطلب یہ ہے ہ وہ شیطان کے بہکانے کی وجہ سے یہ کام کر رہا ہے یا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ شیطان ہے جو اسے گزرنے پرمجبور کر رہا ہے جیسے کہ اگلی روایت میں ہے۔