فهرس الكتاب

الصفحة 961 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: امام سے پہلے رکوع اورسجدہ کرنا منع ہے

961 حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا يَخْشَى الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ، أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ»

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جو شخص امام سے پہلے سر اٹھاتا ہے، کیا اسے اس بات سے خوف نہیں آتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کا سر بنادے؟

۔1۔اس قدر سخت وعید سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام سے پہلے سجدے اور رکوع سے سر اٹھانا بہت بڑا گنا ہ ہے۔2۔عام طور پراللہ تعالیٰ گناہوں کی اس قسم کی سزا دنیا میں نہیں دیتا لیکن ایسا ممکن ہے کہ کسی شخص کو دنیا میں ہی سزا مل جائے۔بالخصوص جب وہ عناد یاتکبر کی بنا پر گناہ کاارتکاب کرے۔3۔امام سے پہلے سراٹھا لینے سے اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔اس جلد بازی کے زریعے سے وہ امام سے پہلے نماز سے فارغ تو نہیں ہوسکتا۔پھر ایسی بے فائدہ حرکت حماقت ہی تو ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت