فهرس الكتاب

الصفحة 991 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: کوئی خاص وجہ پیش آنے پرامام نماز کومختصر کرسکتا ہے

991 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، وَبِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَقُومُ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُطَوِّلَ فِيهَا، فَأَسْمَعُ بُكَاءَ الصَّبِيِّ، فَأَتَجَوَّزُ؛ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَشُقَّ عَلَى أُمِّهِ»

سیدنا ابو قتادہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور میرا ارادہ اسے طویل کرنے کا ہوتا ہے، پھر مجھے کسی بچے کے رونے کی آواز آجاتی ہے تو میں نماز مختصر کر دیتا ہوں کیوں کہ مجھے یہ بات پسند نہیں کہ بچے کی ماں کو پریشانی ہو۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت