فهرس الكتاب

الصفحة 995 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: صفیں سیدھی کرنا

995 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلِّونَ عَلَى الَّذِينَ يَصِلُونَ الصُّفُوفَ، وَمَنْ سَدَّ فُرْجَةً رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرْجَةً»

سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر رحمت نازل کرتا ہے اور فرشتے ان کے لئے دعائے خیر کرتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں اور جو شخص صف کا شگاف پر کرے گا، اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دےگا۔''

۔1۔صف کا شگاف پر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر صف میں دو آدمی ایک دوسرے سے اتنے دور کھڑے ہیں۔کہ درمیان میں ایک آدمی کی جگہ ہے۔تو بعد میں آنے والا اس جگہ کھڑا ہوجائے ورنہ انھیں کہے کہ آپس میں مل جائو تاکہ درمیان میں خالی جگہ باقی نہ رہے۔2۔اگر پہلی صف کے کنارے پر آدمی کی جگہ باقی ہو اور لوگ پچھلی صف میں کھڑے ہو گئے ہوں۔تو بعد میں آنے والا اگلی صف کے کنارے پر خالی جگہ میں کھڑا ہو جائے یہ بھی صف ملانے میں شامل ہے۔3۔صف میں جس مقام پرخالی جگہ ہو۔اس مقام کے نمازیوں کو چاہیے کہ ہرشخص امام کی طرف ملتا چلا جائے۔امام سے دایئں طرف والا ہر شخص اپنے بایئں ساتھی سے ملے اور امام سے بایئں طرف والا ہر شخص اپنے دایئں ساتھی سے ملے۔اس طرح شکاف پر ہوجائےگا۔اگر اس کے برعکس ملیں گے تو شگاف پر نہیں ہوگا یا لوگوں کو امام سے دور ہٹنا پڑے گا جو مناسب نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت