100 حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ صَالِحُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ بَكْرِ بْنِ خُنَيْسٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ»
حضرت ابو جحیفہ ؓ سے روایت ہے ، اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:'' ابو بکر اور عمر ؓ پہلے اور پچھلے معمر جنتیوں کے سردار ہیں، لیکن نبیوں اور رسولوں کے سوا۔''
نبی وہ ہے جس پر وحی اترے اور رسول اس سے خاص ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ رسول وہ ہے جو کتاب و شریعت جداگانہ رکھتا ہو اور کسی خاص قوم کی طرف مبعوث ہو اور نبی جو اس کے قدم بقدم ہو۔ مبلغ ہو۔ وحی دونوں پر آتی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، حدیث:95 کے فوائد و مسائل۔