فهرس الكتاب

الصفحة 1022 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نماز کے دوران میں بلغم تھوکنا

1022 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَأَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ فَقَالَ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يَقُومُ مُسْتَقْبِلَهُ يَعْنِي رَبَّهُ فَيَتَنَخَّعُ أَمَامَهُ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يُسْتَقْبَلَ فَيُتَنَخَّعَ فِي وَجْهِهِ إِذَا بَزَقَ أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَنَّ عَنْ شِمَالِهِ أَوْ لِيَقُلْ هَكَذَا فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ أَرَانِي إِسْمَعِيلُ يَبْزُقُ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَدْلُكُهُ

سیدنا ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو مسجد کی قبلے والی دیوار پر بلغم لگا ہوا نظر آیا۔ آپ ﷺ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ''تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ ایک آدمی رب کی طرف متوجہ ہو کر کھڑا ہوتا ہے، پھر اپنے سامنے بلغم تھوک دیتا ہے؟ کیا تم میں سے کسی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کے سامنے آکر اس کے چہرے پر تھوک دیا جائے؟ جب کسی کو تھوکنا ہو تو اپنی بائیں طرف تھوک لے یا اپنے کپڑے میں اس طرح کر لے۔'' (امام ابن ماجہ ؓ کے استاد سیدنا ابو بکر بن ابی شیبہ نے فرمایا:) امام اسماعیل ابن علیہ ؓ نے ( اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے مجھے یوں کر کے دکھایا کہ) کپڑے میں تھوکا، پھر کپڑے کو مل دیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت