فهرس الكتاب

الصفحة 1106 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: جمعے کے خطبے کا بیان

1106 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ آيَاتٍ وَيَذْكُرُ اللَّهَ وَكَانَتْ خُطْبَتُهُ قَصْدًا وَصَلَاتُهُ قَصْدًا

سیدنا جابر بن سمرہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہو کر قرآن مجید کی آیات تلاوت فرماتے اور اللہ کو یاد کرتے۔ نبی ﷺ کا خطبہ متوسط ہوتا تھا اور نماز بھی متوسط ہوتی تھی۔

۔خطبے میں قرآن مجید کی آیات پڑھ کر ان کی روشنی میں مسائل بیان کرنے چاہیں۔2۔خطبہ بہت طویل ہو نہ بہت مختصر بلکہ درمیانہ انداز اختیار کرنا چااہیے۔3۔نماز بہت مختصر نہیں ہونی چاہیے۔بعض خطباء انتہائی مختصر سورتوں کی تلاوت کرتے ہیں۔ یا لمبی سورت کی تین چاار آیتیں پڑھنے پر اکتفا کرتے ہیں۔یہ طریقہ خلاف سنت ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت