فهرس الكتاب

الصفحة 1347 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: کتنے عرصے میں قرآن ختم کرنا مستحب ہے

1347 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَفْقَهْ مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ

عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: '' جس نے تین دن سے کم مدت میں قرآن مجید پورا پڑھا اس نے قرآن کو سمجھا ہی نہیں۔''

1۔ مذکورہ روایت میں قرآن مجید ختم کرنے کی مدت تین دن بیان ہوئی ہے۔اورگزشتہ روایت میں سات دن اور بعض روایات میں پانچ دنوں کا زکر بھی ملتا ہے۔حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ اس کی بابت لکھتے ہیں۔کہ ان روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے۔بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن عمرو کو مختلف اوقات میں تاکید کے طور پر یہ ارشادات فرمائے۔نیز امام نووی رحمۃ اللہ علیہ ا س کی بابت یوں رقمطراز ہیں۔کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ختم قرآن کی بابت دنوں کے تعین میں مختلف فرامین ہیں۔تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے مختلف اشخاص کے احوال کے پیش نظریہ فرامین ارشاد فرمائے۔یعنی ایک صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تین دن فرمائے۔اور ایک کو سات دن اور ایک کو پانچ دن لہذا تین دن سے کم مدت میں قرآن مجید ختم نہیں کرنا چاہیے۔تفصیل کے لئے دیکھئے۔ (فتح الباری 9/97 والموسوعۃ الحدیثیۃ مسندالامام احمد 11/52۔53۔) 2۔تلاوت قرآن مجید کا اصل مقصد اس کا فہم اور اس پر غور وفکر ہے اس لئے قرآن مجید کا ترجمہ سیکھنا ضروری ہے۔مزید کسی اچھے عالم کی تفسیر کا مطالعہ بھی کرنا چاہیے۔تاہم سلف صالحین کی فکر سے ہٹ کر تفسیر کرنے والوں کی تصنیفات سے اجتناب ضروری ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت