فهرس الكتاب

الصفحة 1348 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: کتنے عرصے میں قرآن ختم کرنا مستحب ہے

1348 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ كُلَّهُ حَتَّى الصَّبَاحِ

سیدنا عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میرے علم میں نہیں کہ اللہ کے نبی ﷺ نے صبح تک پورا قرآن مجید پڑھا ہو۔

۔ ایک یا دو رات میں قرآن مجید کو پورا کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔حفاظ میں جو شبینے کا جو طریقہ رائج ہے یہ بھی ترک کردینے کے قابل ہے۔ البتہ تین راتوں میں قرآن ختم کیاجائے۔تو پھر اس کا جواز ہوسکتا ہے۔واللہ اعلم۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت