فهرس الكتاب

الصفحة 1353 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: تہجد میں تلاوت کے مسائل

1353 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يَمُدُّ صَوْتَهُ مَدًّا

سیدنا قتادہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے انس بن مالک ؓ سے نبی ﷺ کی تلاوت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ آواز کو طویل کرتے تھے۔

مطلب یہ ہے کہ جو الفاظ کھینچ کر پڑھے جاسکتے ہیں۔ انھیں کھینچ کر لمبا کرکے پڑھتے تھے مثلا جب کسی حرف کے ساتھ الف ملا ہوا ہویا پیش کے بعد ساکن وائو آرہا ہو یازیر کے بعد ساکن یا آرہی ہو تو ان حروف کونسبتًا طویل کرکے پڑھا جائے گا۔صرف زیر زبر اورپیش والے حرف کو کھینچ کر پڑھنا درست نہیں جب کہ ان کے بعد الف واو اور یاء ساکن موجود نہ ہو مثلا (۔إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ) میں ان یااعطین پڑھنا غلط ہے اسی طرح (فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ) کو فصلی لربکا پڑھنا درست نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت