فهرس الكتاب

الصفحة 1354 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: تہجد میں تلاوت کے مسائل

1354 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ فَقُلْتُ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَوْ يُخَافِتُ بِهِ قَالَتْ رُبَّمَا جَهَرَ وَرُبَّمَا خَافَتَ قُلْتُ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي هَذَا الْأَمْرِ سَعَةً

سیدنا غضیف بن حارث ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں ام المومنین سیدہ عائشہ ؓا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: کیا رسول اللہ ( نماز مین) بلند آواز سے قراءت کرتےتھے یا خاموشی سے؟ انہوں نے فرمایا: کبھی جہر سے تلاوت کرتے تھے، کبھی خاموشی سے ۔ میں نے کہا: ''اللہ اکبر! شکر ہے اللہ کا جس نے اس معاملہ میں گنجائش (اور آسانی ) رکھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت