فهرس الكتاب

الصفحة 1377 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: نفل نماز گھر میں ادا کرنا

1377 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اپنے گھروں کو قبریں نہ بنالو۔''

1۔ذکر الٰہی دل کی زندگی ہے۔زکر نہ کرنے والا مردے کی مانند ہے۔نماززکر کا بہترین طریقہ ہے۔2۔قبرستان میں نماز پڑھنا منع ہے۔3۔گھروں کوقبریں بنانے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح قبرستان میں نماز نہیں پڑھی جاتی۔اسی طرح گھروں میں نماز پڑھنے سے پرہیز نہ کرو۔ کہ فرض نمازوں کے علاوہ تمام نفلی نمازیں بھی مسجد میں ہی ادا کرنے لگو۔بلکہ نفلی نمازیں گھر میں بھی پڑھا کرو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت