1378 حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا أَفْضَلُ الصَّلَاةُ فِي بَيْتِي أَوْ الصَّلَاةُ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ أَلَا تَرَى إِلَى بَيْتِي مَا أَقْرَبَهُ مِنْ الْمَسْجِدِ فَلَأَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَسْجِدِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً
عبداللہ بن سعد ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا: کون سی چیز افضل ہے؟ گھر میں نماز پڑھنا یا مسجد میں نماز پڑھنا؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کیا تم میرا گھر نہیں دیکھ رہے کہ وہ مسجد سے کتنا قریب ہے؟ مجھے مسجد میں نماز پڑھنے سے اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ پسند ہے، سوائے اس کے کہ فرض نماز ہو۔''
1۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نفل نماز گھر میں پڑھنا پسند ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ مسجد میں آنے جانے میں مشقت ہوتی تھی۔جیسے کہ مسجد دور ہونے کی صورت میں ہوسکتی ہے۔بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ گھر میں نفل نماز ادا کرنا افضل ہے ۔2۔عالم آدمی جب سوال کرنے والے کواپنارد عمل بیان کردے۔ تو یہ بھی مسئلہ بتانے کی ایک صورت ہے۔ اس کا فائدہ یہ بھی ہے کہ اس سے سائل کوزیادہ اطمینان حاصل ہوجاتاہے۔