فهرس الكتاب

الصفحة 1410 من 4341

کتاب: نماز کی اقامت اور اس کا طریقہ

باب: بیت المقدس کی مسجد میں نماز کا بیان

1410 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُشَدُّ الرِّحَالُ إِلَّا إِلَى ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ: إِلَى الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ، وَإِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى وَإِلَى مَسْجِدِي هَذَا

عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''کجاوے کس کر سفر نہ کیا جائے مگر تین مسجدوں کی طرف۔ مسجد حرام کی طرف، مسجد اقصیٰ کی طرف اور میری اس مسجد کی طرف۔''

زیارت کے لئے سفر صرف ان تین مساجد کی طرف جائز ہے۔اس کے علاوہ کسی جائز مقصد کےلئے سفر کرکے کسی بھی مقام پرجانا جائز ہے۔مثلا حصول علم کےلئے جہاد کے لئے علماء وصلحاء سے ملاقات کےلئے اقارب اور احسباب سےملاقات کے لئے یا تجارت اور ملازمت کےلئے اسی طرح جو شخص مدینہ میں موجود ہے۔تو وہ مسجد قباء میں جائے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ یہ سفر نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت