فهرس الكتاب
1419 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ الْمُغِيرَةَ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، قَالَ: «أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا»
مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اللہ کے رسول ﷺ نے قیام فرمایا حتی کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے۔ عرض کیا گیا: اللہ کے رسلو! اللہ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیے ہیں ( پھر آپ اتنی مشقت کیوں کرتے ہیں؟ ) فرمایا: ''کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں؟''
1۔پیغمبرگناہ سے معصوم ہوتے ہیں۔لیکن اگرفرض کرلیا جائے کہ کوئی گناہ سر زد ہوجائےگا تو اس کو پہلے سے معاف کرنے کا اعلان کردیاگیا۔اس سے مقصد رسول اللہ ﷺ کے بلند مقام ومرتبہ کااظہار ہے یا گناہ سےمراد وہ اعمال ہوسکتے ہیں۔جہاں نبی اکرم ﷺ نے کسی مصلحت کے بنا پر افضل کام کو چھوڑ کر دوسرا جائز کام اختیار فرمایا۔2۔اللہ تعالیٰ کسی بندے کو اعلیٰ مقام دے تو اس کو چاہیے کہ شکر کازیادہ اہتما م کرے۔3۔شکر کا بہترین طریقہ عبادت میں محنت کرنا ہے۔خصوصا نماز او ر تلاوت قرآن مجید میں ۔نماز تہجد میں یہ دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔