فهرس الكتاب

الصفحة 1544 من 4341

کتاب: جنازے سے متعلق احکام و مسائل

باب : جنازہ آتا دیکھ کر کھڑے ہونا

1544 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِجِنَازَةٍ فَقُمْنَا، حَتَّى جَلَسَ فَجَلَسْنَا»

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے، پھر رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے تو ہم بھی بیٹھ گئے۔

اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے۔کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا منسوخ ہے۔لیکن یہ اس صورت میں ہے جب (قام) اور (قمنا) کے لفظ میں استمرار (ایک کام بار بار کرنے) کا مفہوم سمجھا جائے اور یوں ترجمہ کیا جائے۔ نبی ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوتے تھے تو ہم بھی کھڑے ہوتے تھے۔پھر نبی کریمﷺ بیٹھنے لگے تو ہم نے بھی بیٹھنا شروع کردیا۔ لیکن اس کا ایک دوسرا ترجمہ بھی ہوسکتا ہے۔یعنی (قام) اور (قمنا) سے ایک دفعہ کا واقعہ سمجھا جائے تو مطلب یہ ہوگا۔ رسول اللہ ﷺ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہوگئے حتیٰ کہ نبی کریمﷺ کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑےہوگئے نبی کریمﷺ بیٹھے تو ہم بھی بیٹھ گئے۔یعنی جب تک نبی کریمﷺ کھڑے رہے ہم بھی کھڑے رہے۔جب جنازہ گزر گیا تو نبی کریمﷺبیٹھ گئے تب ہم بھی بیٹھ گئے۔اس صورت میں کھڑا ہونا منسوخ نہیں سمجھاجائے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت