1685 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ
ام المومنین حفصہ ؓا سے روایت ہے کہ نبی ﷺ روزے کی حالت میں بوسہ لے لیتے تھے۔
فائدہ،۔روزے کی حالت میں جماع کرنا حرام ہے۔اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔اور کفارہ دینا لازم ہوجاتا ہے۔لیکن اس سے کم تر معاملات سے روزہ نہیں ٹوٹتا تاہم جس شخص کو خطرہ محسوس ہو کہ پیار کرنے سے اس کے جذبات بے قابو ہوجایئں گے۔اور وہ جماع کربیٹھے گا تو اس کو بوس وکنار سے بھی پرہیز کرنا چاہیے جیسے اگلے باب کی احادیث میں صراحت ہے۔