1690 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ
ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''بعض روزے داروں کو روزے سے بھوک کے سوا کچھ نہیں ملتا اور بعض قیام کرنے والوں کو قیام سے بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔'
1۔اخلاص کے بغیر نیک اعمال قبول نہیں ہوتے۔2۔عبادت میں جس طرح ظاہری ارکان کی پابندی ضروری ہے۔اسی طرح باطنی کیفیات اخلاص۔اللہ کی محبت اللہ کا خوف اللہ سے امید وغیرہ بھی مطلوب ہیں۔ان کی عدم موجودگی میں ظاہری عمل بے فائدہ ہے۔3۔اگر کسی موقع پر مطلوبہ باطنی اور قلبی کیفیت موجودنہ ہو تو نیکی کو ترک نہیں کردینا چاہیے۔کیونکہ اس کا کم از کم یہ فائدہ تو حاصل ہو ہی جائےگا۔کہ فرض کا تارک شمار نہیں ہوگا۔ اور وہ نیکی مسلسل انجام دینے سے امید کی جاسکتی ہے۔کہ دل پر تھوڑا بہت اچھا اثر لازمًا ہوجائے گا۔4۔عبادات میں ان کے آداب کا لہاظ رکھنا بہت ضروری ہے۔