فهرس الكتاب

الصفحة 1691 من 4341

کتاب: روزوں کی اہمیت وفضیلت

باب: روزے دار کےلیےغیبت اور فحش گوئی(کی ممانعت ) کا بیان

1691 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَجْهَلْ وَإِنْ جَهِلَ عَلَيْهِ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ

ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''جب تم میں سے کسی کا دن کو روزہ ہو تو وہ فحش گوئی نہ کرے اور ناروا حرکت کرے، اگر کوئی اس سے بدتمیزی کرے تو کہہ دے میں روزے دار ہوں ۔''

1۔روزے کے فوائد کماحقہ حاصل کرنے کے لئے آداب کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے 2۔جہل (ناروا حرکت) سے مراد لڑائی جھگڑے کی بات ہے۔یعنی روزے دار کو لڑائی میں پہل بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اور اگر کوئی دوسرا شخص ایسی بات کرے۔ یا ایسی حرکت کرے جس سےروزے دار کو غصہ آجائے تب بھی روزے دار کو جواب میں جھگڑنا نہیں چاہیے بلکہ اپنے روزے کا خیال کرتے ہوئے برداشت اورتحمل سے کام لیتے ہوئے جھگڑے سے اجتناب کرنا چاہیے۔3۔یہ کہنا کہ میں روزے سے ہوں اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ دل میں اپنے روزے کا خیال کرے تاکہ جھگڑے سے بچنا ممکن ہوسکے۔دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جھگڑنے والے سے کہہ دے کہ میں تمہاری غلط حرکت کا جواب تمہارے انداز میں اس لئے نہیں دے رہا کہ میرا روزہ مجھے اس سے روکتا ہے۔امید ہے اس سے اس کو شرم آجائے گی۔اور وہ روزے دار کے روزے کا احترام کرتے ہوئے جھگڑا ختم کردے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت