فهرس الكتاب

الصفحة 2069 من 4341

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

باب: لعان کا بیان

2069 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُمَا، وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ایک مرد نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بیٹے کو اپنا ماننے سے انکار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے ان دونون کے درمیان جدائی کرادی اور بچے کو عورت کے ساتھ کر دیا۔

1۔لعان سے نکاح ختم ہوجاتا ہے، اس کے بعد یہ مرد اس عورت سے کبھی نکاح نہیں کرسکتا۔2۔ لعان کی صورت میں عورت کا خاوند بچے کا باپ نہیں کہلائے گا۔بچہ اس مرد کا وارث بھی نہیں ہوگا، البتہ عورت کےماں ہونےا میں کوئی شک نہیں، اس لیے وہ اپنی ماں اور ننھیالی رشتے داروں کا وارث ہوگا اور وہ اس کے وارث ہوں گے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت