فهرس الكتاب

الصفحة 2070 من 4341

کتاب: طلاق سے متعلق احکام و مسائل

باب: لعان کا بیان

2070 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ النَّيْسَابُورِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: ذَكَرَ طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ امْرَأَةً مِنْ بَلْعِجْلَانَ، فَدَخَلَ بِهَا فَبَاتَ عِنْدَهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ: مَا وَجَدْتُهَا عَذْرَاءَ، فَرُفِعَ شَأْنُهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَسَأَلَهَا، فَقَالَتْ: بَلَى، قَدْ كُنْتُ عَذْرَاءَ، فَأَمَرَ بِهِمَا فَتَلَاعَنَا وَأَعْطَاهَا الْمَهْرَ

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ ایک انصاری آدمی نے قبیلہ بنؤ عجلان کی ایک عورت سے نکاح کیا، چنانچہ اس نے اس سے صحبت کی اور رات بھر اس کے پاس رہا۔ جب صبح ہوئی تو اس نے کہا: میں نے اسے باکرہ (کنواری) نہیں پایا۔ اس کا مقدمہ نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے لڑکی کو بلا کر دریافت کیا تو اس نے کہا: میں تو باکرہ تھی، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں میں لعان کروایا اور لڑکی کو حق مہر دلوایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت