فهرس الكتاب

الصفحة 232 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: علم کی باتیں دوسروں تک پہنچانے والے کی فضیلت

232 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، أنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَبَلَّغَهُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ مِنْ سَامِعٍ»

سیدنا عبداللہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا:'' اللہ تعالیٰ اس شخص کو خوش رکھے ،جس نے ہماری کوئی بات سنی، پھر اسے ( دوسروں تک) پہنچایا، بعض اوقات جسے حدیث پہنچائی جاتی ہے، وہ ( براہ راست) سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔''

(1) حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نام کے متعدد صھابہ کرام رضی اللہ عنھم سے احادیث مروی ہیں۔ اس حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ جب صرف عبداللہ (صحابی) لکھا ہو تو مراد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہی ہوں گے۔ (2) اس حدیث میں بشارت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے بعد بھی ہر دور میں حفاظ حدیث موجود رہیں گے اگرچہ ان کی تعداد کسی دورمیں بہت زیادہ اور کسی دور میں کم ہو گی۔ (3) حفظ حدیث سے عموما حدیث کو زبانی یاد رکھنا مراد لیا جاتا ہے لیکن تحریر طور پر حدیث کو محفوظ کر لینا بھی حفظ حدیث میں شامل ہے۔ ائمہ حدیث نے دونوں طرح حدیث کو محفوظ کیا ہے بلکہ صحابہ کرام میں سے متعدد حضرات حدیث تحریری طور پر محفوظ رکھتے تھے اور زبانی بھی یاد کرتے تھے اور روایت کرتے تھے۔ مثلا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ وغيره۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت