فهرس الكتاب

الصفحة 233 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: علم کی باتیں دوسروں تک پہنچانے والے کی فضیلت

233 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَعَنْ رَجُلٍ آخَرَ، - هُوَ أَفْضَلُ فِي نَفْسِي مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ - عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ النَّحْرِ، فَقَالَ: «لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَإِنَّهُ رُبَّ مُبَلَّغٍ يَبْلُغُهُ أَوْعَى لَهُ مِنْ سَامِعٍ»

سیدنا ابو بکرہ ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور فرمایا:'' جو شخص حاضر ہے، وہ غیر موجود تک (میری یہ باتیں ) پہنچادے۔ بعض اوقات جس شخص کو بات پہنچائی جاتی ہے، وہ ( براہِ راست) سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت