فهرس الكتاب

الصفحة 2400 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: وقتی طور پر( عاریتًا )چیز مانگ لینا

2400 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ

حضرت سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہاتھ نے جو کچھ (قرض یا عاریت کے طور پر) لیا، وہ اس کے ذمے رہتا ہے حتی کہ اسے ادا کرے۔

مذکورہ روایت سندا ضعیف ہےلیکن یہ بات حق ہے کہ قرض امانت اورعاریتا لی ہوئی چیز کی واپسی فرض ہے'اس کے دلائل قرآن مجید اوردیگر صحیح احادیث میں موجود ہیں مثلا:ارشاد باری تعالی ہے۔: (والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون ) (المومنون 74:8) ''اور جولوگ اپںی امانتوں اوروعدوں کاخیال رکھتےہیں۔'' (وہی مومن کامیاب ہیں ۔) اوردیکھیے (سنن ابن ماجہ حدیث:2401)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت