فهرس الكتاب

الصفحة 2413 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: قرض ادا نہ کرنے پر وعید

2413 حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ بِدَيْنِهِ حَتَّى يُقْضَى عَنْهُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مومن کی روح اس کے قرض کی وجہ سے لٹکتی رہتی ہے حتی کہ اس کی طرف سے (قرض) ادا کر دیا جائے۔

1۔ لٹکنے کا مطلب ہے کہ مرنےکے بعد بھی اس پرادائیگی کی ذمے دار باقی رہتی ہے اور وہ ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا' اس لیے اسے پریشانی رہتی ہے ۔ یہ یہ مطلب ہے کہ اسے جنت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملتی

2۔ مالی حقوق میں نیابت درست ہے یعنی اگرکسی کی طرف سے ادائیگی کر دی جائے توقرض وغیرہ اداہوجاتاہے اورہ اللہ کےہاں بھی اس ذمے داری سے سبک دوش ہوجاتاہے۔

3۔ فوت ہونے والے کا ترکہ تقسیم کرنے سے پہلے اس کا قرض اداکرنا چاہیے۔ اگر ترکہ کم ہوتو وارث اپنے پاس سےقرض اداکریں ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت