2414 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ بْنِ سَوَاءٍ حَدَّثَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ سَوَاءٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دِينَارٌ أَوْ دِرْهَمٌ قُضِيَ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذؐے ایک دینار یا ایک درہم تھا، وہ اس کی نیکیوں سے ادا کیا جائے گا، وہاں (آخرت میں) دینار ہوں گے نہ درہم۔
1۔ اگر وارث قرض ادانہ کریں تومیت پراس کےذمے داری باقی رہتی ہے جس کی وجہ سے اسے قیامت کےدن مشکل پیش آئے گی ۔
2۔ حقوق العباد کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔
3۔ نیکیوں سے ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ جس قدر قرض ہوگا اس کے مطابق مقروض کی نیکیاں قرض خواہ کودے دی جائیں گی اگر مقروض کےپاس نیکیاں نہ ہوئیں یا اس کےقرض سےکم ہوئیں توقرض خواہ کےاس قدر گناہ مقروض کےسرڈال دیے جائیں گے۔
4۔ نیکیاں کرلینے کےبعد ان کو ضائع ہونے سے بچانا چاہیے اورایسے اعمال سے پرہیز کرنا چاہیے جن سے نیکیاں ضائع ہوجاتی ہیں'مثلا: ظلم حسد کسی کےساتھ نیکی کرکےاسے احسان جتلانا وغیرہ۔