فهرس الكتاب

الصفحة 2429 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: قرض(کی عدم ادائیگی )کی وجہ سے قید کرنا اور ساتھ رہنا

2429 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَنْبَأَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى ارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى كَعْبًا فَقَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ دَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّطْرِ فَقَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ

حضرت کعب بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے مسجد میں حضرت عبداللہ بن ابو حدرد ؓ سے ان کے ذمے اپنے قرج کی واپسی کا تقاضا کیا۔ ان کی آوازیں بلند ہو گئیں حتی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں ان کی آوازیں سن لیں۔ نبی ﷺ باہر نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور حضرت کعب ؓ کو آواز دی، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ نے فرمایا: اپنے قرض میں سے اتنا معاف کر دو۔ اور ہاتھ سے نصف کا اشارہ کیا (آدھا قرض چھوڑ دو۔) انہوں نے کہا: میں نے معاف کیا۔ نبی ﷺ نے (ابن ابو حدرد ؓ سے) فرمایا: اٹھو، اس کا قرض ادا کرو۔

1۔ قرض خواہ مقروض سےقرض کی واپسی کاتقاضا کرسکتاہے۔

2۔ دوآدمیوں میں کسی بات پرجھگڑا ہوجائے توصلح کرادین چاہیے خاص طورپروہ شخص جس کوجھگڑنے والوں پر کسی قسم کی فضیلت حاصل ہواوراس کی بات مانی جاتی ہوتو اس کےلیے ضروری ہے کہ جھگڑا ختم کرائے۔

3۔ صلح کےلیے صاحب حق اپنا کچھ حق چھوڑدے توبہت ثواب کی بات ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت