فهرس الكتاب

الصفحة 2431 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: قرض دینا

2431 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ و حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ مَكْتُوبًا الصَّدَقَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا وَالْقَرْضُ بِثَمَانِيَةَ عَشَرَ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا بَالُ الْقَرْضِ أَفْضَلُ مِنْ الصَّدَقَةِ قَالَ لِأَنَّ السَّائِلَ يَسْأَلُ وَعِنْدَهُ وَالْمُسْتَقْرِضُ لَا يَسْتَقْرِضُ إِلَّا مِنْ حَاجَةٍ

حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: معراج کی رات میں نے جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا: صدقے کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا۔ میں نے کہا: اے جبریل! کیا وجہ ہے کہ قرض صدقے ست بھی زیادہ فضیلت کا حامل ہے؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ سائل (بعض اوقات) سوال کرتا ہے، حالانکہ اس کے پاس (اس کی ضرورت کا مال) موجود ہوتا ہے جبکہ قرض لینے والا ضرورت (اور مجبوری) کی حالت ہی میں قرض لیتا ہے (کیونکہ قرض کی واپسی تو ضروری ہے، اس لیے مجبوری کے وقت ہی لیا جاتا ہے) ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت