فهرس الكتاب

الصفحة 2432 من 4341

کتاب: صدقہ وخیرات سے متعلق احکام ومسائل

باب: قرض دینا

2432 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ الضَّبِّيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ الْهُنَائِيِّ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الرَّجُلُ مِنَّا يُقْرِضُ أَخَاهُ الْمَالَ فَيُهْدِي لَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَقْرَضَ أَحَدُكُمْ قَرْضًا فَأَهْدَى لَهُ أَوْ حَمَلَهُ عَلَى الدَّابَّةِ فَلَا يَرْكَبْهَا وَلَا يَقْبَلْهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ جَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ قَبْلَ ذَلِكَ

حضرت یحییٰ بن ابو اسحاق ہنائی ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت انس بن مالک ؓ سے پوچھا: ایک آادمی اپنے بھائی کو مال بطور قرض دیتا ہے، پھر وہ (مقروض) اسے کچھ تحفہ دے دیتا ہے (کیا یہ مناسب ہے؟) انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص جب (کسی کو) قرض دے، پھر (مقروض) اسے تحفہ دے یا سواری کے لیے جانور پیش کرے تو (قرض خواہ کو چاہیے کہ وہ اس پر سواری نہ کرے اور نہ وہ(تحفہ) قبول کرے، سوائے اس کے کہ ان دونوں میں پہلے سے (تحفے تحائف) کا یہ سلسلہ جاری ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت