فهرس الكتاب

الصفحة 254 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: علم سے فائدہ اٹھانا اور اس پر عمل کرنا

254 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ لِتُبَاهُوا بِهِ الْعُلَمَاءَ، وَلَا لِتُمَارُوا بِهِ السُّفَهَاءَ، وَلَا تَخَيَّرُوا بِهِ الْمَجَالِسَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَالنَّارُ النَّارُ»

سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا:'' علم اس لئے حاصل نہ کرو کہ علماء کے مقابلہ میں فخر کا اظہار کرو، نہ اس لئے کہ کم عقل لوگوں سے بحث کرو، نہ اس لئے کہ مجلس میں ممتاز مقام حاصل کرو۔ جس نے ایسا کیا تو ( اس کے لئے) آگ ہے، آگ ہے۔''

(بعض محققین نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ دیکھیے:(صحیح الترغیب للالبانی، حدیث:102) نیز ہمارے محقق نے بھی اس کے دیگر شواہد کا تذکرہ کیا ہے لیکن ان کی صحت و ضعف کی طرف اشارہ نہیں کیا، بہرحال یہ روایت شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔ (2) (فالنار النار) کا جملہ دو طرح پڑھا گیا ہے۔ اگر پیش سے (فالنار النار) پڑھا جائے تو وہ ترجمہ ہو گا جو بیان ہوا۔ اگر زبر سے فالنار النار پڑھا جائے تو مطلب ہو گا"یہ آگ کس مستحق ہے۔"یا"اسے چاہیے کہ آگ سے ڈرے۔"

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت