فهرس الكتاب

الصفحة 255 من 4341

کتاب: سنت کی اہمیت وفضیلت

باب: علم سے فائدہ اٹھانا اور اس پر عمل کرنا

255 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ: أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سَيَتَفَقَّهُونَ فِي الدِّينِ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، وَيَقُولُونَ: نَأْتِي الْأُمَرَاءَ فَنُصِيبُ مِنْ دُنْيَاهُمْ، وَنَعْتَزِلُهُمْ بِدِينِنَا، وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ، كَمَا لَا يُجْتَنَى مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْكُ، كَذَلِكَ لَا يُجْتَنَى مِنْ قُرْبِهِمْ إِلَّا قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، كَأَنَّهُ يَعْنِي الْخَطَايَا

سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا:'' میری امت کے کچھ لوگ دین کا علم حاصل کریں گے اور قرآن پڑھیں گے۔ ( پھر) وہ کہیں گے: ہم حکمرانوں کے پاس جاتے ہیں، ان کی دنیا سے کچھ حاصل کر لیں گے اور اپنا دین بچا کر الگ ہو جائیں گے۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ جس طرح قتاد ( ایک قسم کا کانٹوں والا درخت) سے صرف کانٹے ہی حاصل ہو سکتے ہیں ( پھل نہیں) اس طرح ان کے پاس جا کر کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے۔۔۔۔''

امام ابن ماجہ کے استاد محمد بن صباح ؓ نے فرمایا:یعنی سوائے گناہوں کے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت