فهرس الكتاب

الصفحة 2709 من 4341

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

باب: تہائی ترکےکی وصیت

2709 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَصَدَّقَ عَلَيْكُمْ عِنْدَ وَفَاتِكُمْ بِثُلُثِ أَمْوَالِكُمْ زِيَادَةً لَكُمْ فِي أَعْمَالِكُمْ

ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ''اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ صدقہ کیا ہے کہ وفات کے وقت تمہیں تہائی مال ( میں وصیت کا حق) دے دیا ہے تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو جائے۔''

1۔مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قراردیا ہے لیکن بعض محققین نے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔ تفصیل کےل یے دیکھئے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الامام احمد:45؍475، 476، والارواء، رقم:1641) بنابریں اسلامی شریعت کے احکام دنیا اور آخرت میں فائدے کا باعث ہیں۔ 2۔ اچھے کام کی وصیت کرنے سے مرنے والے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب اس کی وفات کے بعد اس کی وصیت پر عمل کیا جاتا ہے تو مرنے والے کو اس کا ثواب پہنچتا ہے ۔3۔ اگر پسماندگان اچھے کام کی وصیت پرعمل نہ کریں تب بھی فوت ہونے والے کو اچھی وصیت کا ثواب ضرور ملے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت