فهرس الكتاب

الصفحة 2710 من 4341

کتاب: وصیت سے متعلق احکام ومسائل

باب: تہائی ترکےکی وصیت

2710 حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بنِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى أَنْبَأَنَا مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ابْنَ آدَمَ اثْنَتَانِ لَمْ تَكُنْ لَكَ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا جَعَلْتُ لَكَ نَصِيبًا مِنْ مَالِكَ حِينَ أَخَذْتُ بِكَظَمِكَ لِأُطَهِّرَكَ بِهِ وَأُزَكِّيَكَ وَصَلَاةُ عِبَادِي عَلَيْكَ بَعْدَ انْقِضَاءِ أَجَلِكَ

عبداللہ عمر ؓ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: '' ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ) اے آدم کے بیٹے! دو چیزیں ( میں نے تجھے دی ہیں) ان میں سے ایک بھی تیرے ہاتھ میں نہیں تھی۔ میں نے تیرے مال میں اس وقت تیرا حصہ مقرر کر دیا جب میں تیری سانس بند کرتا ہوں۔ ( یہ اس لیے) تاکہ تجھے پاک صاف کر دوں اور ( دوسری چیز) تیری زندگی کے ختم ہو جانے کے بعد میرے بندوں کا تجھ پر نماز جنازہ ادا کرنا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت