فهرس الكتاب

الصفحة 2778 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: سمندری جہاد کی فضیلت

2778 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْجُبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ الشَّامِيُّ عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ شَهِيدُ الْبَحْرِ مِثْلُ شَهِيدَيْ الْبَرِّ وَالْمَائِدُ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ وَمَا بَيْنَ الْمَوْجَتَيْنِ كَقَاطِعِ الدُّنْيَا فِي طَاعَةِ اللَّهِ وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ بِقَبْضِ الْأَرْوَاحِ إِلَّا شَهِيدَ الْبَحْرِ فَإِنَّهُ يَتَوَلَّى قَبْضَ أَرْوَاحِهِمْ وَيَغْفِرُ لِشَهِيدِ الْبَرِّ الذُّنُوبَ كُلَّهَا إِلَّا الدَّيْنَ وَلِشَهِيدِ الْبَحْرِ الذُّنُوبَ وَالدَّيْنَ

حضرت ابوامامہ ؓ سےر وایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپ فرمارہے تھے: سمندر کا شہید خشکی کے دوشہیدوں کے برابر ہے۔ اور سمندر ( کےسفر ) میں جس کا سر چکراتا ہے وہ خشکی میں اپنے خون سے آلودہ ہو کر تڑپنے والے کی طرح ہے اور دو موجوں کے درمیان ( کا فاصلہ طے کرنے والا) ایسے ہے جیسے اللہ کی راہ میں ساری دنیا کا فاصلہ طے کرنے والا ۔ اللہ تعالی نےموت کے فرشتے کو روحیں قبض کرنے پر مقرر کیا ہے سوائے سمندر کے شہید کے، ان کی روحیں اللہ تعالی خود قبض کرتا ہے۔ وہ خشکی کے شہید کے سارے گناہ بخش دیتا ہے سوائے قرض کے اورسمندر کے شہید کے گناہ بھی بخش دیتا ہے اور قرض بھی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت