فهرس الكتاب

الصفحة 2785 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: جنگ میں اخلاص نیت

2785 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ غَازِيَةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُصِيبُوا غَنِيمَةً إِلَّا تَعَجَّلُوا ثُلُثَيْ أَجْرِهِمْ فَإِنْ لَمْ يُصِيبُوا غَنِيمَةً تَمَّ لَهُمْ أَجْرُهُمْ

حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے نبیﷺ سے سنا، آپ فرمارہے تھے: جو جماعت اللہ کی راہ میں جنگ کرتی ہے اور ان افراد کو غنیمت حاصل ہوجاتی ہے تو وہ اپنا دو تہائی ثواب جلدی ( دنیا ہی میں) وصول کرلیتے ہیں ۔ اگر انہیں غنیمت نہ ملے تو ( آخرت میں ) پورے ثواب کے مستحق ہوتے ہیں۔

1۔جہاد میں زیادہ مشکلات برداشت کرنے والے کو زیادہ ثواب ملتا ہے۔

2۔غنیمت نہ ملنے پر پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ انجام کے لحاظ سے یہ بہتر ہے۔

3۔مال غنیمت کو صرف ذاتی ضروریات پوری کرنے کے بجائےاللہ کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے تاکہ پورا ثواب مل جائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت