فهرس الكتاب

الصفحة 2812 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: اللہ کی راہ میں تیر چلانا

2812 حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيِّ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَمَى الْعَدُوَّ بِسَهْمٍ فَبَلَغَ سَهْمُهُ الْعَدُوَّ أَصَابَ أَوْ أَخْطَأَ فَعَدْلُ رَقَبَةٍ

حضرت عمرو بن عبسہ﷜ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، آپ فرمار ہے تھے: جو شخص دشمن کی طرف ایک تیر پھینکے اور وہ دشمن تک پہنچ جائے، خواہ دشمن کو لگے یا نہ لگے وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔

۔تیر چلانے کا اصل مقصد جنگ میں دشمن کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے لیکن اگر کسی کا پھینکا ہوا تیر کسی دشمن کو زخمی یا ہلاک نہ کرسکے تو وہ یہ نہ سمجھے کہ مجھے اس کا ثواب نہیں ملے گا۔

2۔نیت صحیح ہوتو نا مکمل کام بھی ثواب سے خالی نہیں ہوتا۔

3۔میزائل بم اور توپ کے گولے کا بھی یہی حکم ہےاگر وہ نشانے پر نہ لگ سکے تو ہتھیار چلانے والے کو ثواب ملتا ہے کیونکہ اس کی کوشش اور نیت ٹارگٹ (نشانے) کو تباہ کرنے کی ہوتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت