فهرس الكتاب

الصفحة 2813 من 4341

کتاب: جہاد سے متعلق احکام ومسائل

باب: اللہ کی راہ میں تیر چلانا

2813 حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ الْجُهَنِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ أَلَا وَإِنَّ الْقُوَّةَ الرَّمْيُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حضرت عقبہ بن عامرجہنی ؓ سےر وایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کو منبر پر یہ آیت تلاوت کرتے سنا: {وَأَعِدّوا لَهُم مَا استَطَعتُم مِن قُوَّةٍ} دشمن کے مقابلے کے لیے جتنی ہوسکے طاقت تیار رکھو۔ پھر تین بار فرمایا: ' خبردار ! طاقت سے مرادتیر اندازی ہے۔

1۔مسلمان کو کافروں کے مقابلے میں ہر قسم کے اسلحے میں برتر ہونا چاہیے۔

(رمي) کے اصل معنی پھینکنے کے ہیں۔دور نبوت میں صرف تیر ہی دور سے پھینک کر استعمال کیا جانےوالا ہتھیار تھا اس لیے اس کا ترجمہ تیر اندازی کیاجاتا ہے تاہم اصل لغوی معنی کے لحاظ سے ہر قسم کی رائفل بندوق کلاشنکوف توپ اور میزائل وغیرہ اس میں شامل ہیں۔

3۔مسلمانوں کو اپنے دفاع کے لیے اس قسم کے اسلحے پر خاص توجہ دینی چاہیے جسے دور سے پھینکا جاتا ہے اور اسے پھینکنے کے آلات (راکٹ لانچر اور بمبار طیارے وغیرہ ) بھی تیار کرنے چاہییں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت