فهرس الكتاب

الصفحة 2888 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حج اور عمرے کی فضیلت

2888 حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةُ مَا بَيْنَهُمَا وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے نبیﷺ نےفرمایا:ایک عمرے کےبعددوسرا عمرادونوں کی درمیانی مدت کے گناہ کفارہ ہوجاتا ہے۔اور حج مبرور (نیکیوں والے حج) کا بدلہ محض جنت ہے

1۔ حج مبرور سے مراد وہ حج ہے جس میں ہر قسم کی لڑائی جھگڑے اور گناہوں سے پر ہیز کی پوری کوشش کی جائے اس لیے اس لفظ کا ترجمہ مقبول حج بھی کیا جاتا ہے۔

2۔عمرے سے گزشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

3۔احادیث میں بہت سی نیکیوں کے بارے میں مذکور ہےکہ ان سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔لیکن اس کا دارومدار نیکیوں کو سبت کے مطابق ادا کرنے اور خلوص قلب پر ہے۔علاوہ ازیں بعض اوقات نیکی میں ایسی کمی رہ جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کے ثواب میں بہت کمی ہوجاتی ہے۔ایسی نیکی اتنے گناہوں کی معافی کا باعث نہیں بن سکتی جتنے گناہ صحیح نیکی سے معاف ہوتے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت