فهرس الكتاب

الصفحة 2889 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حج اور عمرے کی فضیلت

2889 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ وَسُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ هَذَا الْبَيْتَ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَمَا وَلَدَتْهُ أُمُّهُ

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نےفرمایا:جوشخص اس گھر (کعبہ شریف) کاحج کرے اور (حج کےدوران میں) بے ہودہ گوئی نہ کرے اورگناہ نہ کرےوہ واپس آتا ہے اس طرح (گناہوں سے پاک) ہوتا ہے جیسے وہ اپنی ماں سے پیدا ہوتے وقت تھا۔

1۔بے ہودہ گوئی سے مراد فحش کلمات یا فحش حرکات ہیں۔حج کے سفر میں جب خاوند اپنی بیوی سے بے تکلفی والی ایسی حرکت نہیں کرسکتا جو عام حالات میں اس کے لیے جائز ہے تو اجنبی عورت کی طرف غلط نگاہ سے دیکھنا اس کے لیے کیوں کر جائز ہوگا؟

2۔احرام کھولنے کے بعد مرد کے لیے بیوی کے ساتھ اختلاط جائز ہوتا ہے

3۔انسان گناہوں سے پاک ہوتا ہے۔اور بالغ ہونے تک اس کے گناہ نہیں لکھے جاتے ۔یہودونصاری کا یہ عقیدہ غلط ہے کہ انسان گناہ گار پیدا ہوتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت