فهرس الكتاب

الصفحة 2944 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: حجرا سود کو بو سہ دینا

2944 حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ الرَّازِيُّ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَأْتِيَنَّ هَذَا الْحَجَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَهُ عَيْنَانِ يُبْصِرُ بِهِمَا وَلِسَانٌ يَنْطِقُ بِهِ يَشْهَدُ عَلَى مَنْ يَسْتَلِمُهُ بِحَقٍّ

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے'رسول اللہﷺنے فرمایا:''قیامت کے دن یہ پتھر (حجر اسود) ضرور اس حال میں حاضرہو گا کہ اس کی دو آنکھیں ہوں گی جن سے وہ د یکھے گا 'اوراس کی زبان ہو گی جس سے وہ بولے گا۔جس نے اسے حق کے ساتھ چو ہو گا اس کے حق میں گواہی دے گا۔''

1۔حجر اسود کو بوسہ دینے میں بہت ثواب ہے اس لیے اگر بوسہ دینا ممکن ہو توضرور بوسہ دینا چاہیے۔

2۔قیامت کے حالات دنیا کے حالات سے مختلف ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اشارہ دنیا میں فائدہ دینے کے بارے میں ہے۔اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اشارہ آخرت کے بارے میں ہے جب بے جان چیزیں بھی نیکیوں کے حق میں اور بدکاروں کے خلاف گواہی دیں گی۔

3۔حق کے ساتھ بوسہ دینا یعنی عقیدہ توحید پر قائم رہتے ہوئے اور شرک سے اجتناب کرتے ہوئے بوسہ دینا مراد ہے کیونکہ کفر اور شرک اکبر کی موجودگی میں بڑی سے بڑی نیکی کالعدم ہوجاتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت