2988 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ إِنْ أَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى وَإِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو ( یہ درست ہےکیو نکہ ) میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو ( اس مقا م پر ) دوڑتے دیکھا ہے ۔ اور اگر (عا م رفتار سے ) چلو ں تو ( یہ بھی درست ہے کیو نکہ ) میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو چلتے ہو ئے بھی دیکھا ہے ۔ اور میں بڑی عمر کا بو ڑ ھا آدمی ہو ں ( اس لئے دوڑ نا مشکل محسو س ہوتا ہے ۔)
1۔صفاء اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران میں وادی میں (سبز نشانوں کے درمیان) دوڑنا سنت ہے۔
2۔اگر کوئی شخص بڑھاپے یا بیماری یا کمزوری کی وجہ سے دوڑ نہ سکے تو عام رفتار سے بھی سعی کا فرض ادا کردکتا ہے۔
3۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھاپے کا ذکر کرکے اپنا عذر واضح کیاہے۔اس میں اشار ہ ہے کہ عذر نہ ہوتو دوڑنا ہی چاہیے۔