فهرس الكتاب

الصفحة 3011 من 4341

کتاب: حج وعمرہ کے احکام ومسائل

باب: عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ

3011 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ كُنَّا وُقُوفًا فِي مَكَانٍ تُبَاعِدُهُ مِنْ الْمَوْقِفِ فَأَتَانَا ابْنُ مِرْبَعٍ فَقَالَ إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكُمْ يَقُولُ كُونُوا عَلَى مَشَاعِرِكُمْ فَإِنَّكُمْ الْيَوْمَ عَلَى إِرْثٍ مِنْ إِرْثِ إِبْرَاهِيمَ

حضرت یزید بن شیبان ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا:ہم ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے جسے آپ ٹھہرنے کی جگہ سے دور ہی قرار دے سکتے ہیں۔حضرت ابن مربع ؓ ہمارے پاس آئے اور کہا:میں تمہارے پاس اللہ کے رسولﷺ کا پیغام لایا ہوں۔رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں: اپنے اپنے مقام پر ٹھہرے رہو۔آج تم ابراہیم علیہ السلام کی وراثت کے حامل ہو۔

1۔رسول اکرم ﷺ پہاڑوں کے دامن میں چٹانوں کے پاس ٹھہرے تھے۔

2۔حاجی کے لیے ضروری نہیں کہ عرفات میں اسی جگہ ٹحہرے جہاں رسول اکرم ﷺ ٹھہرے تھے بلکہ وادی عرفہ کو چھعر کر پورے میدان عرگات میں جہاں بھی جگہ ملے ٹھہر جائے۔

3۔ہماری شریعت میں حج کے احکام و مسائل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت کے مطابق ہیں۔اہل عرب نے ان میں جو تبدیلیاں کرلی تھیں یا جو بدعات ایجاد کرلی تھیں رسول اللہﷺ نےاپنے عمل سے ان کی اصلاح کرکے صحیح طریقہ سکھادیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت