3012 حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَرَفَةَ مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ عَرَفَةَ وَكُلُّ الْمُزْدَلِفَةِ مَوْقِفٌ وَارْتَفِعُوا عَنْ بَطْنِ مُحَسِّرٍ وَكُلُّ مِنًى مَنْحَرٌ إِلَّا مَا وَرَاءَ الْعَقَبَةِ
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا: عرفات سب کا سب ٹھہرنے کی جگہ ہے البتہ عرنہ کے نشیبی حصے سے اوپر رہو۔مزدلفہ سب کا سب ٹھہرنے کی جگہ ہےالبتہ وادئ محسر کی نشیب سے اوپر رہو۔منیٰ سب کا سب قربانی کی جگہ ہے سوائے اس کے جو گھاٹی کے پیچھے ہے۔
1۔ مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سندًا ضعیف قراردیاہے۔اور مزید لکھا ہے کہ (الا ماوراء العقبة) جملے کے علاوہ باقی روایت کی اصل صحیح مسلم (1218) اور سنن ابی داؤد (1907۔1936۔1937) میں ہے۔لہذا مذکورہ روایت (الا ماورآء العقبة) جملے کے علاوہ قابل عمل اور حجت ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (صحيح ابي داؤد(مفصل) للالباني رقم:1665ّ1692 1693)وضعيف سنن ابن ماجه للالباني رقم:65 وسنن ابن ماجه بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم:3-12)
2۔وادی عرنہ عرفات کے قریب ہے عرفات میں شامل نہیں۔نو ذوالحجہ کو وہاں نہیں ٹھہرنا چاہیے۔ورنہ وقوف عرفات کا فرض ادا نہیں ہوگا،اور حج فوت ہوجائے گا۔
3۔حج کی ادائیگی کے لیے عرفات میں ٹھہرنا ضروری ہے۔اگرچہ تھوڑی دیر ہی ٹھرا جائے۔
4۔سنت یہ ہے کہ ظہر اور عصر کی نمازیں ظہر کے وقت جمع اور قصر کرکے ادا کریں اور پھر عرفات میں دعا اور ذکر الہی میں مشغول رہیں حتی کہ سورج غروب ہوجائے۔
5۔نو ذوالحجہ کو سورج غروب ہونے کے بعد عرفات سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کرنی چاہییں۔
4۔وادی محسر وہ وادی ہے جہاں ابرہہ کی فوجیں تباہ ہوئی تھیں اس لیے مزدلفہ میں ٹھہرتے وقت احتیاط کرنی چاہیے۔کہ غلطی سے وادی محسر میں رات نہ گزاریں۔
6۔قربانی منی میں کرنی چاہیے۔ (صحيح البخاري الحج باب النحر في منحر النبي ﷺ بمني حديث:1711) البتہ اگر کوئی شخص مکہ میں (حدود حرم کے اندر) قربانی کرلے تو بھی جائز ہے۔ (سنن ابي داؤد المناسك باب الصلاة بجمع حديث:1937 وسنن ابن ماجه المناسك باب الذبح حديث:3048)